ابنا: باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک آل سعود کے چھے ہزار فوجي يمن کي شمال مغربي سرحد سے يمن ميں داخل ہوچکے ہيں اور قرائن سے لگتا ہے کہ الحوثي تحريک کو کچلنے کي کوشش کي جا رہي ہےـ
باخبر ذرائع نے يہ بھي بتايا ہے کہ آل سعود حکومت نے يمن سے ملنے والي سرحد پر متعدد چوکياں بنا دي ہيں اور چوکيوں پر ميزائل لانچنگ پيڈ، جديد توپيں اور ديگر فوجي ساز و سامان پہنچا ديا ہےـ
سعودي عرب نے اسي طرح يمن کے حوثي مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے صو ماليہ، پاکستان اور افغانستان کے شہريوں کو فوج ميں بھرتي کرنے کے لئے مراکز قائم کئے ہيں ـ
سعودي عرب نے شمالي يمن کے قبائل کے سرداروں کو رياض کے دورے کي دعوت دي ہے جہاں ان کي ملاقات ولي عہد نائب بن عبد العزيز سے کرائي گئي ہے اور ان سے مطالبہ کيا گيا ہے کہ وہ الحوثي تحريک کے خلاف سعودي عرب کي جنگ ميں ساتھ دينے کے لئے اپنے فوجي تيار کريں ـ
سياسي ماہرين کا کہنا ہے کہ الحوثي تحريک کے خلاف جاري ان سازشوں سے معلوم ہوتا ہے کہ يہ تحريک واشنگٹن اور رياض کي يمن سے متعلق پاليسيوں کے راستے ميں رکاوٹ بن گئي ہے۔.......
/169